فاختہ معصوم تھی ڈرتی رہی

کیوں نہ ملتا میں بھی اس کو ناز سے
وہ جو واقف ہے مرے ہر راز سے
فاختہ معصوم تھی ڈرتی رہی
اور زخمی ہو گئی اک باز سے
رہزن خنجر سے لوٹیں اور وہ
ہم کو لوٹے کس حسیں انداز سے
راہبر کیا راہزن بھی رک گئے
جب ہوئے مسحور نظر ناز سے
اس کے ابرو، اس کے پیکاں ہر گھڑی
لڑنے کو تیار ہر جاں باز سے
دوستی جب دشمنی میں ڈھل گئی
کون گاتا گیت ٹوٹے ساز سے
پشت پر کیوں وار کرتا ہے عزیز
پوچھنے آیا ہوں تیر انداز سے
شاعر: رحمت علی عزیز

اپنا تبصرہ بھیجیں