Home / اردو ادب / پاکستان میں اردو کا مستقبل
urdu language future in pakistan

پاکستان میں اردو کا مستقبل

ارشد فاروق بٹ
تاجروں کا ایک تصدیق شدہ ادارہ “چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری” ہے. جسے اردو میں “ایوان صنعت و تجارت” کہتے ہیں. اس ادارے کے انگریزی و اردو دونوں ناموں پر غور کریں، آپ کو کس زبان میں بہتر تفہیم نظر آتی ہے؟

ظاہر ہے ” ایوان صنعت و تجارت” کے تینوں الفاظ معنوی اعتبار سے مکمل اور قابل سمجھ ہیں. لیکن چیمبر کے اردو میں کئی معانی ہیں. اسی طرح انڈسٹری کے بھی کئی مطالب ہیں اور یہ معانی فقرے میں استعمال کے لحاظ سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں.

دنیا بھر میں قومی قرار دی جانے والی زبان کو شناخت اور عزت دی جاتی ہے. اور اس کی ترویج کے لیےکام کیا جاتا ہے. جبکہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے. ہم اپنی قومی زبان بولتے ہوئے شرماتے ہیں اور قومی لباس زیب تن کرنے والے کو کمتر خیال کرتے ہیں.

احساس کمتری کا یہ منظر ابتدائی تعلیم کے دوران ہی ہمیں دیکھنے کو مل جاتا ہے جہاں نجی سکول وردی کے لیے پینٹ شرٹ کو لازمی قرار دیتے ہیں اور علاقائی زبانوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرتے ہیں. کتابوں کی بات کریں تو ذریعہ تعلیم کے لیے انگریزی کا انتخاب کیا گیا ہے جس کے “نیٹو سپیکر” یہاں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں. تدریس کے شعبے سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ کس طرح بچے ریاضی کا سوال حل کر لیتے ہیں لیکن سوال کے اوپر انگریزی میں لکھی گئی عبارت پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں.

جلسہ تقسیم اسناد اور اس جیسی دیگر تقریبات کا آغاز انگریزی جملوں سے کیا جاتا ہے لیکن دو چار جملوں کے بعد اردو پر آنے میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے.

اس کے بعد یہی صورتحال ملازمت کے لیے دیے گیے انٹرویو میں بھی دیکھنے میں آتی ہے. جہاں پہلا سوال “اپنا تعارف کرائیں” کی بجائے “ڈسکرائب یور سیلف” ہوتا ہے. اگر امیدوار اچھی انگریزی جھاڑ دے تو اسے ملازمت کا اہل، اور اگر وہ تعارف کے لیے اردو زبان کا انتخاب کرتا ہے تو اسے نالائق تصور کیا جاتا ہے. حالانکہ انٹرویو لینے والے خود بھی دو چار جملوں کے بعد اردو پہ آ جاتے ہیں.

سوال یہ ہے کہ جب انگریزی کو ہمارے نظام میں اس قدر اہمیت دی جا رہی ہے تو کیا اس کی ترویج کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ سات دہائیوں سے سکولوں میں انگریزی سیکھنے والی قوم کا ہاتھ آج بھی اس میں تنگ ہے؟ ہمارے سیاستدانوں اور شوبز سے وابستہ افراد کے انگریزی سے دو ہاتھ کرتے ہوئے مزاحیہ کلپ کیوں وائرل ہیں؟

اس کا سادہ سا جواب کسی زبان کو سیکھنے کے لیے چار مہارتوں پر عبور حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے. (لکھنا ، پڑھنا ، سننا، بولنا). ہمارے سکولوں میں ان چار میں سے دو مہارتوں پر کام کیا جاتا ہے یعنی لکھنا اور پڑھنا جبکہ دیگر دو عملی مہارتیں یعنی سننا اور بولنا ہمارے تعلیمی نظام سے غائب ہیں. یہی وجہ ہے کہ انگریزی میں ماسٹرز کرنے والے کا ہاتھ بھی روانی سے انگریزی بولنے میں تنگ ہی ہوتا ہے. ہمارے سکولوں میں “لینگوئج لیبارٹریز” نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے ماحول میں انگریزی پنپ سکی ہے.

اس بات کا ادراک عالمی نشریاتی اداروں کو بھی ہے. اسی لیے بی بی سی، وائس آف امریکہ، ڈی ڈبلیو جیسے بڑے اداروں نے اردو میں نشریات کے لیے انتظامات کر رکھے ہیں. تاکہ پاکستانی اور اردو بولنے والی برادری میں اپنے نظریات کا پرچار کیا جا سکے.

ترکی اور چائنہ کا ذریعہ تعلیم انکی قومی زبانوں میں ہے. اگر زبان ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہوتی تو یہ ممالک ہم سے پیچھے ہوتے. سپریم کورٹ کے اردو زبان کے نفاذ کے حق میں دیے گیے فیصلے کے بعد حکومت پاکستان کے لیے لازم ہے کہ اردو زبان کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے. پاکستان کا روشن مستقبل اردو زبان کے نفاذ میں پوشیدہ ہے. اگر بطور ریاست پاکستان نے اردو سے لاتعلقی اختیار کی تو اردو پھر بھی زندہ رہے گی. پاکستان کے علاوہ بھی کئی ممالک اس کی ترویج کے لیے کام کر رہے ہیں.

شنید ہے کہ کچھ عرصے تک “سرسید دوئم” منظر عام پر آنے والے ہیں جو انگریزی زبان کی جگہ چینی زبان کے حق میں مدلل نظریات پیش کریں گے اور ہماری قوم کی ایک اور صدی غیر ملکی زبان پر برباد ہونے والی ہے. تاہم اردو کے لیے صدائیں بلند ہوتی رہیں گی.

——————————————————————————-

انٹرٹینمنٹ ویڈیوز کے لیے ہمارا چینل سبسکرائب کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے