urdu columns

نہ رکنے والی معاشی تباہی —- ڈاکٹر ابراہیم مغل

از : ابر اہیم مغل
بہت جی چا ہتا ہے کہ کسی ہلکے پھلکے مو ضو ع پہ رقمطر ازی کر کے کچھ عر صہ کے لیئے سنجید ہ ما حو ل سے با ہر نکلوں۔ مگر کیا کر وں کہ ہر دم بڑھتا معا شی تنا ؤ اس کی اجا زت ہی نہیں دیتا۔ اب کبو تر کے لیئے بلی کو دیکھ کر آ نکھیں بند کر لینا کہا ں کی عقلمند ی ہے بھلا؟ نشا نیا ں ہر جا نب آشکا رہ ہیں۔سٹا ک ما ر کیٹ کی ز بو ں حا لی کو دیکھیے۔ ہنڈ ر ڈ انڈ یکس سا ڑھے سینتیس ہزا ر کی نچلی تر ین سطح پہ ٹہلتا ملے گا۔ سر ما یہ دا ر سر ما یہ لگا نے سے انکا ری ہیں۔ سٹا ک ما ر کیٹ کے کر یش ہو نے کی خبر یں تو سنا ہی کر تے تھے، اب تو گو لڈ ما ر کیٹ کے کر یش ہو نے کی خبر یں بھی سننے کو ملنے لگی ہیں۔ ڈو نتی معیشت کے خطر ے کا نشا ن کہا ں ہے،یہ بھی نہیں معلوم۔کیو نکہ حکمر ا نو ں سے با ت کر یں تو وہ سب ا چھے کی رپو ر ٹ کے علا وہ اور کچھ کہتے ہی نہیں۔اب زرا کچھ دیر کیلیئے ایشیا ئی تر قیا تی بنک کی رپو ر ٹ پا کستا ن کے با رے میں ملا حظہ تو فر ما یئے۔

چو د ہ طبق رو شن ہو جا ئیں گے کیو نکہ یہ پا کستا ن کی معا شی صو رتِ حا ل پہ مکمل طور پر روشنی ڈا لتی ہے۔اس سے ہفتہ بھر پہلے سٹیٹ بینک کے زرعی پالیسی سٹیٹمنٹ میں معیشت کو لاحق جن خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی ایشیائی ترقیاتی بینک کی آؤٹ لک رپورٹ میں تفصیل کے ساتھ ان خدشات اور عوام کو بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہ ملکی معیشت کے بڑے حصہ دار یعنی خدمات، صنعت اور زراعت کے شعبوں کی نمو پانچ برس کی نچلی ترین سطح پر ہے۔ 2014ء میں شرح نمو چار فیصد کے لگ بھگ تھی جبکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پانچ فیصد سے تجاوز کرنے کے بعد رواں سال یہ 3.9 فیصد تک گرچکی ہے اور اگلے سال اس میں مزید گراوٹ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ زوال کسی ایک شعبے میں نہیں بلکہ ہمہ جہت ہے اور نہ ہی محض ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے ہے جیسا کہ حکومتی معاشی زعما اکثر عوام کو یاد دلاتے ہیں۔ زراعت، صنعت اور خدمات سمیت، معیشت کے تمام شعبے نمایاں سست روی کا شکار ہیں۔ زراعت کا شعبہ رواں سال 3.8 فیصد جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتکاری 6.6 فیصد تنزل کا شکار ہے۔ تعمیرات کے شعبے کی سرگرمیاں رک چکی ہیں۔ یہ حالات اس حکومت کے پہلے سات ماہ کے جس کا دعویٰ تھا کہ پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرکے دیں گے۔ عملی صورتحال ان دعووں کے برعکس نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ دعووں کی ہوائیاں چھوڑنے والوں نے معیشت کی سنجیدہ ریاضیاتی حکمتوں کو بھی سیاست کی نظر ہی سے دیکھا اور سیاستدان کی زبان سے بیان کردیا۔ یہ مان لیتے ہیں کہ سابقہ حکومتوں نے بہت کچھ غلط کیا مگر موجودہ حکومت کو اپنے پہلے سال کے نصف اول کے دوران کچھ تو ایسا دکھانا چاہیے تھا جس کی وجہ سے کہا جاسکے کہ ٹھوس بنیادیں بھری جارہی ہیں۔ مگر ابھی تک ایسا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ ہمارے معاشی زعمان، جن کی قابلیت سے ہم ملکی معیشت کی استواری کی امید وابستہ کیے بیٹھے ہیں، کوئی متوازن جواب اور عملی اقدام تو یش کرنے سے ابھی تک قاصر ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے اور اس سے بھی زیادہ تیزی سے عوام کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ قومی معیشت کے عارضے ہمہ جہت ہیں، ڈالر مہنگا، صنعتی پیداوار میں تنزل، زرعی آمدنی میں گراوٹ، خدمات کے شعبوں میں ڈپریشن، یہ سب چیزیں اور ان سے جڑے عوامل عوام کی قوتِ خرید کو نہایت پست درجے تک لے آئے ہیں۔
ایک طرف لوگوں کی نوکریاں اور آمدنی کے مواقع کم ہورہے ہیں دوسری جانب مہنگائی کا کوئی قاعدہ، کوئی معیار ہی نہیں۔ ملکوں کی تاریخ میں اقتصادی بحران آتے رہتے ہیں، مگر ان سے نکلنے کا ٹھوس انتظام کیا جاتا ہے اور وہ انتظام غیرمرئی نہیں ہوتا بلکہ عملی اور حقیقت صورت میں نظر آتا ہے اور اس کے اثرات اس کے ہونے کا احساس دلاتے ہیں، مگر ہمارے ہاں طرفہ تماشا ہے کہ حکومت اپنے معاشی دماغوں سمیت کسی معجزے کے انتظار میں ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت کے بیانات پر غور کیجئے کہ کس طرح وہ طفل تسلیوں سے کام چلا رہے ہیں۔ بحیرہ عرب میں ڈرلنگ کرنے والی کمپنیوں کا شکریہ کہ انہوں نے حکومت کو عوام کو دینے کے لیے ایک نئی امید فراہم کردی کہ تیل اور گیس نکلے گی تو سب مسئلے حل ہوجائیں گے۔ معدنی وسائل کی کھدائی کی کوشش کے آغاز پر ہی خزانے کے ثمرات کو اپنے خیالی کھاتوں میں شامل کرلینے والی ایسی ’پرامید‘ حکومت اور کہاں ملے گی۔ یہ سہانے سپنے اپنی جگہ مگر بتدریج غربت کی دلدل میں دھنسے ہوئی عوام کے مسائل حقیقت ہیں، انہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ وہ عملی ریلیف مانگتے ہیں زبانی دعوے اور وعدہ ہائے فردا نہیں۔ حکومت نے جب روپے کی بے قدری کا دروازہ کھولا تو سیانے معیشت دانوں نے حیرت کا اظہار کیا تھا اور اس کے نتائج کی نشاندہی کی تھی۔ پانچ ھ ماہ کے اندر ہی اس کے نتائج سے معیشت کو لاحق ہونے والا انفیکشن ظاہر ہوچکا ہے۔ ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ قیمتیں عملاً بے قابو ہیں اور یہ صرف درآمدی اشیاء تک محدود نہیں کیونکہ کرنسی کی قدر گرنے سے پیداوار اور قیمتوں کے نظام میں درآمدی اور برآمدی کی تفریق بہت حد تک ختم ہوجاتی ہے۔ کم تر شرح مبادلہ صرف درآمدی اشیاء کو متاثر نہیں کرتی بلکہ ملک کے اندر پیدا ہونے والی اشیاء کی قیمتیں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ڈالر کی قیمت میں ردّوبدل ہوتا ہے، ہماری قومی معیشت کی جڑیں ہلنے لگتی، زلزلے کی لہریں صرف مرکز تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا احساس دور دور تک ہوتا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا چین ری ایکشن کس طرح چل رہا ہے اس کا اندازہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے لگائیں کہ تیل کی قیمتوں نے بجلی کی قیمت بڑھائی۔ اب بجلی اور تیل دونوں کی قیمتیں اشیائے صرف اور صنعتی پیداوار کی قیمتوں پر اثر انداز ہوں گی۔ آٹے کے ریٹ بڑھانے کا عندیہ تو دے بھی دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اس صورتحال میں کم آمدنی والے آدمی کے لیے سکھ کے سانس کا امکان کم رہ گیا ہے۔ خدشہ اس بات کا ہے کہ حکومت کی جانب سے اشیاء کی قیمتوں کو توازن میں رکھنے میں عدم دلچسپی آنے والے ہفتوں میں حالات کی بحرانی کیفیت میں اضافہ کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں