Home / کالم / پولیس کو عزت دو

پولیس کو عزت دو

تحریر: ارشد فاروق بٹ
پولیس ڈیپارٹمنٹ حکمرانوں کی مداخلت، سٹیٹس کو، کم نفری، فنڈز کی عدم دستیابی اور کچھ اپنی غلطیوں کے باعث عوام میں اپنی اہمیت کھو چکا ہے. پولیس ملازمین میڈیا کا آسان ترین ہدف ہوتے ہیں اور جونہی کسی پولیس اہلکار سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو پورے ادارے پر لعن طعن شروع ہو جاتی ہے.

وہ ادارہ جو مسلح افواج کے بعد سے زیادہ ٹرینڈ ہے اور جنگ کے دنوں میں سیکنڈ آرمی کے طور پر اپنی خدمات پیش کر سکتا ہے اور ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے وہ اپنے ہی ملک میں لاوارث ہے. ان کے شہداء کے لیے اکثر اخبارات شہید کی بجائے جاں بحق یا ہلاک کے الفاظ استعمال کرتے ہیں. ان شہداء کی یاد میں نغمے نہیں بنتے. ان شہداء کے لاوارث بیوی بچوں کی تصاویر وائرل نہیں ہوتیں. اور بیشتر اہلکار اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ لوگ ان کی عزت نہیں کرتے، ان سے مالی معاملات سے کنی کتراتے ہیں اور حتی کی شادی بیاہ میں بھی نوکری آڑے آ جاتی ہے.

سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کے افسران و اہلکار حاکم وقت کے خلاف جا کر انصاف کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے اس واقعے پر غور کیجئے جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس وقت پیش آیا جب پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا.

اطہر وحید گوجرانوالہ میں بطور ایس پی اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے. انہوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیا. نتیجہ کے طور پر ان کو معطل کر دیا گیا. جب گورنر راج ختم ہوا تو شہباز شریف نے انکو ترقی دے کر راولپنڈی میں تعینات کروا دیا.

کچھ عرصے بعد میاں شہباز شریف نے ایسا ہی کوئی حکم جاری کیا جو غیر قانونی تھا. اطہر وحید نے پھر انکار کر دیا اور انکی تنزلی کر دی گئی. تاہم کچھ عرصے بعد انکو دوبارہ بحال کر دیا گیا.

اس کے بعد لاہور کے ایک شہری نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نوید بٹ کی جبری گمشدگی کے خلاف آئی ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی استدعا کی. عدالتی حکم پر اطہر وحید نے آئی ایس آئی چیف کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا. اس پاداش میں ان کی دوبارہ تنزلی کر دی گئی.

ایسے ہزاروں افسران محکمہ پولیس میں موجود ہیں جو اپنے فرائض سرانجام دینا چاہتے ہیں لیکن ہمارا نظام ان کو مفلوج کر دیتا ہے. اطہر وحید خوش قسمت ہیں کہ ان کی صرف تنزلی اور معطلی ہوتی رہی. ورنہ یہاں نوبت بیوی بچوں تک پہنچ جاتی ہے اور ایمانداری کا بھوت ہر حال میں سر سے اتارا جاتا ہے.

سابق چیف جسٹس کا ایک بیان ریکارڈ پر ہے کہ تھانے کروڑوں میں بکتے ہیں، کروڑوں روپے لے کر ایس ایچ او لگایا جاتا ہے جو بعد میں وہ رقم عوام سے وصول کرتا ہے. ہر شہر میں ایم این اے کو اپنا ایس ایچ او چاہیے اور ہر وزیراعلی کو اپنی مرضی کا آئی جی چاہیے. ایسے میں کارکردگی سے زیادہ وفاداری کارڈ چلتا ہے.

پولیس افسران ادارے کی ساکھ بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں، عوامی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے سوشل میڈیا پر پیجز بنائے گئے ہیں اور اہم خبروں سے عوام کو آگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے کمنٹس کا جواب دیا جاتا ہے اور ان کے مسائل کو متعلقہ تھانوں تک پہنچایا جاتا ہے جو کہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے.

مضبوط اور غیر سیاسی پولیس وقت کی اہم ضرورت ہے. سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہو گا کہ مضبوط پولیس نہ صرف امن و امان کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ آمریت کا راستہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کرسکتی ہے. آزمائش شرط ہے.

————————————————————————————————
انٹرٹینمنٹ ویڈیوز کے لیے ہمارا چینل “فنی ورلڈ” سبسکرائب کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے