arshad farooq

کشمیر اب اسی طرح آزاد ہو گا

تحریر : ارشد فاروق بٹ
یہ 2003 ءکے موسم سرما کی بات ہے۔ برف باری نے زندگی کو منجمد کر رکھا تھا. کشمیر بارڈر کے ایک مقام لیپا سیکٹر میں آرٹلری کی ایک مسجد جس میں نماز فجر کے بعد تسبیحات کا عمل جاری تھا۔ پرسکون نمازیوں میں اسوقت کھلبلی مچ گئی جب بھارت نے اچانک گولہ باری شروع کر دی اور چند گولے مسجد کے نزدیک آ گرے۔ نمازی ڈر کے مارے محراب کے نزدیک ہو گئے۔
مسجد کے خطیب ایک دلیر انسان تھے۔ انہوں نے سب کو حوصلہ دیا اور ملکی سلامتی اور امن و امان کے لئے دعا مانگی۔ بھارتی گولہ باری کے جواب میں پاکستان آرٹلری کی رجمنٹ جو صف شکن کے نام سے مشہور تھی اور چند ہفتے قبل ہی بارڈر پر پہنچی تھی، نے میڈیم گنوں سے گولے فائر کئے۔ یہ رجمنٹ بہت سخت جان تھی اور کراس فائر کرتے ہوئے تقریبا ایک گھنٹہ بھارتی فوجی ٹھکانوں پر گولہ باری کرتی رہی۔ کراس فائر کی وجہ سے بھارتی توپیں پہلے دس منٹ میں ہی خاموش ہو چکی تھیں۔
بعد میں ہمیں اطلاع ملی کہ بھارت کو اسقدر سخت جواب کی توقع نہیں تھی اور اسے خاصا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد سول آبادی ، دکانوں ، ہوٹلوں اور چوراہوں میں ایک ہی موضوع پر بحث ہو رہی تھی کہ کس دلیری سے بھارت کے دانت کھٹے کئے گئے۔ گردونواح میں بمباری سے جگہ جگہ گڑھے بن گئے تھے۔ بہت سے مکانات اور دیواریں منہدم ہوئیں اور چند ایک سویلین زخمی بھی ہوئے لیکن مقامی لوگوں کا حوصلہ آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔
ہم کب تک ان سے لڑتے رہیں گے؟ کوئی حل؟ میں نے اپنے رجمنٹ حوالدار میجر سے پوچھا.
وہ گویا ہوئے: ہم کشمیریوں کو آزادی نہیں دلوا سکتے، ہمارے پاس آرمی، وسائل اور بجٹ بھارتی فوج کے مقابلے میں کہیں کم ہے، ہم صرف ان کو تحفظ دے سکتے ہیں اور انہیں احساس دلا سکتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں.
پھر یہ مسئلہ کیسے حل ہو گا؟
کشمیری چاہیں تو یہ مسئلہ ایک دن میں حل ہو سکتا ہے. حوالدار میجر نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا. جس دن کشمیری آزادی کے لیے گھروں سے نکل آئے، دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی. ایک نہ ایک دن کشمیری نکلیں گے.

palwama

گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں ہوئے حملے کی شدت بتا رہی ہے کہ شاید اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے. مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت تلملا اٹھا ہے، بھارت اپنی کسی بھی ریاست میں اس سے زیادہ شدید حملے برداشت کر سکتا ہے، لیکن وادی کشمیر میں ہوا کوئی بھی واقعہ بھارت کی بنیادیں ہلا دیتا ہے.
لڑائی کا اصول ہے کہ دشمن کے زخموں پر ضرب لگائی جائے، حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے مبینہ گروہ نے بہت کاری وار کیا ہے. بھارت نے کشمیر پر فوج کے بل بوتے پر تسلط جما رکھا ہے، اس کا حل بھی عسکری ہی ہے، دنیا نے اگر اس مسئلے کو حل کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر چکی ہوتی. اب اگر کشمیریوں نے ٹھان لیا ہے کہ بھارت سے آزادی حاصل کر کے رہیں گے تو بغاوت کے اس علم کو پوری وادی میں پھیلا دینا چاہئے. بھارت کو اسی کی بھاشا میں جواب دیا جائے تو ہی ستر سال سے حل طلب تنازعات کا کوئی حل نکلنے کی راہ ہموار ہوگی.

اپنا تبصرہ بھیجیں