Home / کالم / ‘واہ باس کیا کویتا کہی ہے’
columnist arshad farooq latest column

‘واہ باس کیا کویتا کہی ہے’

ارشد فاروق بٹ
ایک دفعہ ایک انسپکٹر سرکاری سکول کی انسپکشن کرنے جاتا ہے۔ سردیوں کا موسم اوراساتذہ کرام حسب معمول دھوپ میں بیٹھے جلیبیاں نوش فرما رہے تھے اور چائے بنائی جا رہی تھی۔ انسپکٹر سیدھا کمرہ جماعت میں داخل ہو گیا۔ جس پر ہیڈ ماسٹر دوڑ کر اس کے پیچھے کمرہ جماعت میں پہنچے اور چائے کے گرما گرم کپ کے لیے دفتر آنے کی درخواست کی۔
انسپکٹر نے کہا کہ میں تو چیک کرنے آیا ہوں اور اپنی ڈیوٹی کے بعد ہی چائے پیوں گا۔ جس پر ہیڈ ماسٹر کو بھی تشویش ہوئی۔ خیر انسپکٹر نےسوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا۔
اس نے پہلا سوال کیا کہ تین کلومیٹر کا سفر ہے اور ایک سو بیس کلومیٹر کی رفتار سے گاڑی جا رہی تھی، بتاو میری عمر کیا ہے؟
ہیڈ ماسٹر نے سمجھا شاید انسپکٹر نے سوال درست نہیں کیا اور کہا جناب لگتا ہے بچوں کو سوال کی سمجھ نہیں آئی۔ سوال ایک بار پھر دہرا دیں۔
انسپکٹر نے دوبارہ وہی سوال پوچھا۔ اب کی بار ایک آدھ ہاتھ ڈرتے ڈرتے کمرہ جماعت میں بلند ہوا۔ ہیڈ ماسٹر نے دوبارہ درخواست کی کہ بچوں کی آسانی کے لیے سوال دہرا دیا جائے۔
تیسری دفعہ وہی سوال اٹھانے پر ایک سیٹھ ٹائپ کاکے نے جھٹ سے ہاتھ بلند کیا، انسپکٹر بہت خوش ہوا کہ میں پوری تحصیل کے سکولوں کی انسپکشن کرتا ہوں اور کوئی میرے سوال کا جواب نہ دے سکا۔ یہ بچہ یقینا سلجھے گھرانے کا لگتا ہے۔
شاباش بچے بتاو میری عمر کتنی ہے؟
پچاس سال، بچے نے جواب دیا۔
انسپکٹر دم بخود رہ گیا اور بچے سے درست جواب کا راز پوچھا۔
بچہ یوں گویا ہوا۔
“ہمارے گاوں میں بھی ایک آدمی ایسی ہی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ اس کی عمر بھی پچاس سال ہے۔”
کہانی ہمیں سبق دیتی ہے کہ اپنی صلاحیتوں پر فخر ضرور کرو، لیکن دوسروں کو بے وقوف مت سمجھو۔
مشہور زمانہ کارٹون کریکٹر جان دا ڈان اپنی ٹوٹی پھوٹی شاعری سے خود اتنا متاثر نہیں ہوتا جتنا اس کا مشیر نظر آتا ہے جو ہر بات پہ کہتا ہے ، واہ باس کیا کویتا کہی ہے۔ ولن کو اپنے مشیر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کویتا کہنے کی تقریبا صلاحیت رکھتا ہے۔
سبھوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہر دور میں ہرجان دا ڈان کو ایسے مشیروں کی تلاش رہی ہے۔ مشیروں کی چاندی تب ہوتی ہے جب جان دا ڈان لمبے عرصے کے لیے نازل ہو جائے۔ جیسے ہی ولن کا دی اینڈ ہونے لگتا ہے، یہ مشیر چپکے سے کھسک لیتے ہیں۔
سات دہائیوں سے قابض خاندان، جن میں اب ایک خاندان کا مزید اضافہ ہو گیا ہے، ہمیں کویتائیں ہی سنا رہے ہیں۔ ان کے میڈیا سیلزنے فیس بک اور ٹویٹر کا مزہ کرکرا کر رکھا ہے۔ مجبورا کاکے ٹک ٹاک پر چلے گئے ہیں۔ کچھ نے ویسے ہی توبہ تائب کر لی ہے، باقی ماندہ کاکوں کا سہ روزہ لگوایا جاتا ہے جس کے بعد ان کی ٹائم لائن ایک دم جنٹلمین ہو جاتی ہے۔ اچھا بھلا بندہ اظہار یکجہتی کا اشتہار پکڑے “واہ باس کیا کویتا کہی ہے” کا پیکر بن جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے