Tuesday , November 12 2019
Home / World News / اوکانوالہ بنگلہ : برطانوی دور کی تاریخی عمارتیں

اوکانوالہ بنگلہ : برطانوی دور کی تاریخی عمارتیں

تحریر (ارشد فاروق بٹ)
چیچہ وطنی شہر سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اوکانوالہ بنگلہ برطانوی دور کی تاریخ کا آئینہ دار ہےجس میں برطانوی دور کا آفیسرز ریسٹ ہاؤس، اس سے ملحقہ عمارات، ملازمین کے کوارٹرز اور گھوڑوں کا اصطبل لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور دور دراز سے لوگ ان مقامات کو دیکھنےآتے ہیں۔
اوکانوالہ بنگلہ کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس جگہ برطانوی ریسٹ ہاؤس کے اردگرد بے شمار اوکاں کے درخت تھے۔ بڑی اور خوبصورت کوٹھی کو چونکہ بنگلہ کہتے ہیں اس لیے درختوں اور عمارت کے امتزاج سے اس جگہ کا نام اوکانوالہ بنگلہ زبان زد عام ہوا۔
محمد ارشد بٹ جو کہ محکمہ انہار میں 26 سال سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی حال ہی میں پٹواری سےاسسٹنٹ ورنیکل کلرک (اے وی سی) کے عہدہ پر ترقی ہوئی ہے اور وہ اس جگہ کے منتظم ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ برطانوی راج کے دوران تعمیر کیا جانے والا یہ ریسٹ ہاؤس تقریبا 1908 سے فعال ہے۔ اس سے ملحق باقی عمارات بھی تب سے قائم ہیں۔ ان تاریخی عمارتوں کے لیے تقریبا 18 کنال رقبہ وقف کیا گیا ہے۔ ریسٹ ہاؤس میں ایکسیئن، ایس سی یا ایس ڈی او یا ڈی سی قیام کرتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہاں پر دو قدیم بنگلے تھے جن میں سے اکڑانوالہ بنگلہ نیلام ہو چکا ہے اور وہاں موجود تاریخی عمارات منہدم کر دی گئی ہیں۔ اوکانوالہ بنگلہ کا یہ تاریخی عمارات کا حامل رقبہ بھی کوڑیوں کے بھاؤ نیلام ہونے لگا تھا مگر ایم این اے منیر ازہر کی مداخلت کے باعث یہ نیلام ہونے سے بچ گیا۔
اکڑانوالہ بنگلہ کی نیلامی سے اس سیکشن کے ملازمین کے دفاتر اب اوکانوالہ بنگلہ کے ریسٹ ہاؤس میں قائم ہیں ۔ضلعدار محمد شریف دونوں سیکشن کے انچارج ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام تاریخی رقبہ محمکہ انہار کے کنٹرول میں ہے۔ قدیم ریسٹ ہاؤس کو اب محکمہ انہارکے سرکاری دفاتر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ محکمہ انہار کے فیلڈ آفیسرسمیت آٹھ پٹواریوں کے دفاتر اسی عمارت میں ہیں۔
پہلے ایک سیکشن میں دس پٹواری ہوتے تھے مگر اب دونوں سیکشن کے کل پٹواریوں کی تعداد 5 سے 8 تک ہوتی ہے۔ یہاں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد پندرہ کے قریب ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے 15 سال سےان تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔
ان تاریخی عمارات کے گرد جو رقبہ کاشت کاری کے لیے استعمال ہوتا ہے وہاں اب تھانہ، ہسپتال اور گرلز کالج تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس سے یہ تاریخی عمارات محض 2 کنال جگہ پر محدود ہو جائیں گی۔
ریسٹ ہاؤس کے مالی نیاز گجر کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ان عمارتوں کی بحالی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور بیشتر عمارتیں خستہ حال ہیں جبکہ چند ایک کی چھتیں بھی گر چکی ہیں۔
اوکانوالہ بنگلہ کے اردگرد کئی گاؤں آباد ہیں اور اس کے نزدیک ایک سکول ہے جس میں پرائمری تا دہم جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اس سکول سے فارغ التحصیل مختار احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے 1975 میں اس سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ تب یہ عمارتیں بہت اچھی حالت میں ہوتی تھیں۔ اب تو نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ اردگرد موجود گاؤں کے لوگ ان عمارات کی تاریخ اور اہمیت سے واقف ہیں۔
اس تاریخی رقبے سے ملحق ایک گھوڑوں کا اصطبل ہےجس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ اوکانوالہ بنگلہ کی۔ اس سے ملحق سرکاری کوارٹر بھی اسی دور میں بنائے گئے۔ یہاں گھوڑوں کو پالنے کے عوض مقامی زمینداروں کو گھوڑی پال مربعے دیے گئے جو آج بھی زمینداروں کے قبضے میں ہیں۔
اب یہ رقبہ آرمی کے کنٹرول میں ہے اور ملازمین کو تنخواہیں آرمی بجٹ سے ہی آتی ہیں تاہم ملازمین کم تنخواہ کا شکوہ کرتے ہوئے اس میں اضافے کی اپیل کرتے ہیں۔
کچھ لوگ ان تاریخی عمارات کی بحالی کے قائل ہیں تاکہ بحیثیت قوم ہمیں احساس ہو کہ یہاں کبھی برطانوی قوم حکومت کر کے گئی ہے۔ جبکہ کچھ لوگ استعماریت کی نشانیوں کو مٹا دینے پر زور دیتے ہیں۔ مگر عمارتیں گرا دینے سے تاریخ کو جھٹلایا تو نہیں جا سکتا۔

About Muhammad Saeed

Avatar
I am Muhammad Saeed and I’m passionate about world and education news with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind QLMDAN with a vision to broaden the company’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Mehar Abad Colony, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Phone: (+92) 300-825-3012 Email: admin@qlmdan.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *