Home / کالم / مائنس ون کے بعد مائنس تھری کی گونج

مائنس ون کے بعد مائنس تھری کی گونج

تحریر: ارشد فاروق بٹ
جب بھی کسی حکومت پر زوال آتا ہے تو ابتداء میں مائنس ون کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ماضی کے برعکس اس بار مائنس ون کی بریکنگ نیوز خود وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے قومی اسمبلی میں دوران خطاب دی ہے۔
انکے نامکمل خطاب کو گزشتہ روز وفاقی وزیر ریلوے نے یہ کہہ کر مکمل کیا کہ مائنس ون نہیں ہوگا، اگر مائنس ون ہوا تو مائنس تھری بھی ہو گا۔
شیخ رشید ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور گزشتہ تین دہائیوں سے ہر حکومت کے عروج وزوال کا بہت قریب سے مشاہدہ کرچکے ہیں۔ عمران خان کے بیان” ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں” کے برعکس ان کے خیال میں “ہم آخری چوائس نہیں ہیں” زیادہ میچور سوچ اور سیاسی پختگی کا عکاس ہے۔
سوال یہ ہے کہ دونوں بڑوں کی آشیرباد سے اقتدار کی راہداریوں میں داخل ہونے والے عمران خان ان بھول بھلیوںمیں کیونکر پھنس گئے۔ تبدیلی کا سفر مائنس ون اور مائنس تھری تک کیسے آن پہنچا؟
پی ٹی آئی کے حکومت سنبھالنے کے فوری بعد بحیثیت عام شہری جو تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں وہ کچھ یوں ہیں۔
سب سے پہلے موٹر سائیکل ہیلمٹ پر نوٹس لیا گیا اور دوران ڈرائیونگ اسے پہننا لازمی قرار دیا گیا۔ نتیجہ موٹر سائیکل ہیلمٹ بلیک میں فروخت ہونے لگا اور لوٹ مار کا بازار خوب گرم رہا۔ تاہم صرف ایک مہینے بعد اس پالیسی کو دفن کر دیا گیا۔ اس کے بعد آج تک کسی نے ہیلمٹ کا نام تک نہیں لیا۔
اس کے بعد تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا جس کی عمر سابقہ نوٹس کی طرح کم و بیش ایک ما ہ رہی۔ اس دوران اپوزیشن کی دوکانوں اور پلازوں کو گرایا گیا۔ پھر سکون ہو گیا۔ تجاوزات دوبارہ قائم ہو چکی ہیں تاہم اب حکومت کہیں اور مصروف ہے۔
عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا۔ جو کہ صرف فوٹو سیشنز تک محدود رہا۔ سائلین کی داد رسی نہ ہونے کے باعث کھلی کچہریاں اپنی موت آپ مر گئیں۔
کشمیر پر بھارتی مظالم کے خلاف سرکاری ملازمین کو احتجاج کرنے کے احکامات دیے گیے۔ ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ہیڈماسٹر صاحبان کی زیر قیادت ریلیاں نکالی گئیں۔ حتی کہ گرلز سکولوں کو بھی احتجاج کا اہتمام کرنا پڑا۔ اظہار یکجہتی ریلیاں، دھوپ میں کھڑے ہونا اور اس جیسے دیگر احکامات کی عمر بھی کم و بیش اتنی ہی تھی جتنی مندرجہ بالا اقدامات کی۔
اس کے بعد چینی ، آٹا اور پٹرول سمیت جس چیز پر بھی نوٹس لیا گیا اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا اور عوام سے اربوں روپے بد انتظامی کی مد میں بٹور لیے گیے۔ میگا کرپشن کیسز میں کسی سے بھی ایک دھیلا وصول نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی سوئس بینکس میں پڑے پاکستانی روپے کو واپس لانے کی مد میں کچھ کیا گیا۔
تاہم یہ سب مائنس ون کے لیے کافی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ ملک کی خراب معاشی حالت، جی ڈی پی کی تنزلی، روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ ہے جو کسی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ جس سے دونوں بڑے بھی مسلسل پریشان ہیں۔
عمران خان کو مندرجہ بالا وقتی اقدامات کی بجائے مستقل پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے اور اہداف کے حصول میں ناکام ہونے والے وزرا سے بازپرس وقت کا تقاضا ہے ۔ تاہم بقول شیخ رشید:
” وزراء اپوزیشن بنے ہوئے ہیں اور وہ کام کر رہے ہیں جو اپوزیشن بھی نہیں کر سکتی۔”
——————————————————————
ساہیوال ، چیچہ وطنی و گردونواح کی ویڈیوز کے لیے ہمارا چینل ساہیوال نیوز سبسکرائب کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے