مجھے طوائف، اخلاق باختہ اور فاحشہ عورت کہا گیا، مہوش حیات ایوارڈ ملنے پر ہونے والی تنقید پر پھٹ پڑیں

کراچی (قلمدان) اداکارہ مہوش حیات تمغہ امتیاز ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقیدکے بعد خود میدان میں آگئیں ۔ مہوش حیات نے اپنے تمغہ امتیاز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری منفی مہم کے جواب میں کہا:

’اگرچہ میں یہ کرنا نہیں چاہتی لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس بیہودگی کے بارے میں بات کرنا ہی ہوگی جو میرے ایوارڈ سے متعلق کی جارہی ہے.‘

اداکارہ نے کہا کہ ان کے ایوارڈ کے بارے میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا وہ اس کے قابل بھی ہیں یا نہیں،’ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں جہاں ہرکسی کا اپنا نقطہ نظر ہے اور میں اس کا احترام کرتی ہوں لیکن یہ اس وقت ناقابل برداشت ہوجاتا ہے جب میرے کردار کے بارے میں انتہائی غلیظ طریقے سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں‘۔

mehwish hayat sitara e imtiaz

مہوش حیات نے مزید کہا کہ وہ اس کو صنفی تنازعہ نہیں بنانا چاہتیں لیکن بہت سے لوگوں کی نظر میں کچھ ایسا ہی ہے۔ ’ مجھے طوائف، اخلاق باختہ اور فاحشہ عورت سمیت دیگر مغلظات سے نوازا گیا اور اتنے برے ناموں سے پکارا گیا کہ اب مجھے ان کا احساس ہی ختم ہوگیا ہے، مجھے ملنے والے ایوارڈ کو پاکستان کی تمام ورکنگ خواتین کیلئے گالی بنادیا گیا ہے‘۔

مہوش حیات نے کہا کہ چاہے ان کا تعلق اس انڈسٹری سے ہے جو گلیمرس لگتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے اپنی اخلاقی روایات بھلادی ہیں، ’کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمارے بارے میں ایسی باتیں کرے، کیونکہ آپ مجھے جانتے ہی نہیں ہیں، گزشتہ 2 ہفتوں نے میری آنکھیں کھول دی ہیں‘۔

Chichawatni News

اپنا تبصرہ بھیجیں