Home / کالم / مجھے کیوں نکالا (پارٹ 2)

مجھے کیوں نکالا (پارٹ 2)

تحریر: ارشد فاروق بٹ
پاکستان کے سیاسی منظرنامے کی بات کریں تو یہ اجتماعی مایوسیوں کا دور ہے۔ شکوے شکایتوں کا دور ہے۔ ہر سیاسی جماعت کے قائدین کواپنے سپورٹران سے گلہ ہے تو سپورٹران کو قیادت پہ غم و غصہ۔ سوشلستان پر اٹھنے والی بیشتر آوازیں خاموش ہو چکی ہیں۔ اور حالات آج سے سولہ سال قبل شوکت عزیز کے دور حکومت کا عکس ہیں جب فیصلے کہیں اور ہوتے تھےاور کندھے فرنٹ پہ موجود کٹھ پتلیوں کے استعمال ہو رہے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر بیماری میں شدت آتی ہے اگر بروقت اسے کنٹرول نہ کیا جائے۔ اب کندھے استعمال کرنے کا بھرم بھی قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ اب براہ راست ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی منشا اور فیصلہ سنا دیا جاتا ہے جس پر کسی کو اختلاف نہیں ہوتا۔ پھر چاہے وہ مشرف کیس ہو یا لاک ڈاون کا معاملہ۔
یہ پریس کانفرنس پاکستان کے کسی فورم پر چیلنج نہیں کی جا سکتی نہ ہی اس کا تریاق ابھی تک دریافت نہیں کیا جا سکا ہے۔
شہباز شریف کی انٹری اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایوان سے مجھے کیوں نکالا کی آوازیں بلند ہونے والی ہیں۔ لیکن یہ آوازیں ماضی کے مقابلے میں بہت کمزور ہونگی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے پاس ایوان میں اکثریت ہے نہ اپنی جماعت کے نمائندے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اصل نمائندے آج بھی کسی ٹیلر شاپ پر کپڑے سلائی کر رہے ہیں یا کہیں کریانہ سٹورپر بھاو تاو کر رہے ہیں۔ جو حکومت میں ہیں وہ خارجیے ہیں اور ایک اشارے پر ترازو کے دوسرے پلڑے میں جا گریں گے۔
آج لاک ڈاون کے باعث پاکستان کے گلی کوچوں میں جنگ جاری ہے۔ ملک کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہے جن کے لیے بیک اپ کے طور پر ہر شہر میں فوجی دستے بھی موجود ہیں۔ شہریوں پر ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال اور سرعام تذلیل سے نقصان کسی پریس کانفرنس ایجنٹ کا نہیں ہو رہا بلکہ گالیاں براہ راست حکومت کو پڑ رہی ہیں۔
حکومت کو جلد اس بند گلی سے نکلنا ہو گا۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب آپ گلی گلی آوازے لگائیں گے۔ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں نکالا مجھے؟ مجھے کیوں نکالا؟
—————————————————————-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے