Home / کالم / تاریخ چیچہ وطنی : چک 88 بارہ ایل

تاریخ چیچہ وطنی : چک 88 بارہ ایل

مصنف : ارشد فاروق بٹ
تلاش رزق نے بھی انہیں میں ہجرتیں بانٹیں
وہ جنہیں بات بات پہ گھر یاد آتا تھا ۔۔۔
ہجرت اس شہر کی فضاوں میں رچی بسی ہے۔ کوئی آیا، کوئی چلا گیا اور کوئی راستوں میں ہے۔ کیا معلوم تلاش رزق اس شہر کے باسیوں کو اور کہاں کہاں لے جاتی ہے۔ اور کیا معلوم اس شہر میں اور کہاں کہاں سے لوگ آتے ہیں۔ ہجرت کے ساتھ ہی ایک تصور جنم بھومی کا ہے جس کی محبت بھی کیا چیز ہے۔ انسان کو ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے بھی اس کی خوشبو اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔لیکن نفسانفسی کے اس مشینی دور میں تلاش معاش نے انسان سے اس کا بچپن ، جوانی، روایات اور خوشیاں تک چھین لی ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی روایات کو زندہ رکھا اور مٹی کی محبت کو مشینوں کے شوروغل میں مٹنے نہ دیا۔
وقت کی سازشوں کا شکار شہر چیچہ وطنی اور اس سے 20 کلومیٹر دور ایک گاوں چک 88 بارہ ایل ہےجس کے مشہور اڈے اوکانوالہ بنگلہ کے نام سے ہم سب واقف ہیں۔ اس گاوں کا رقبہ اوکانوالہ بنگلہ سے شروع ہو کر بیس لائن کے پار چک 90 بارہ ایل تک پھیلا ہوا ہے۔
اوکانوالہ بنگلہ سے 3 کلومیٹر کے فاصلے پر اس گاوں کا داخلی موڑ آتا ہے جسے شاماں موڑ کہتے ہیں۔ جس جگہ یہ موڑ بنایا گیا ہے وہاں شاماں کی زرعی زمین تھی۔شاماں مذہب سے مسلمان تھا جس کا ایک بیٹا عباس اور آٹھ بیٹیاں تھیں۔اس دور میں یہاں اکثر خاندانوں میں لڑکیاں بیچ دی جاتی تھیں اور شاماں بھی اسی سماج کا حصہ تھا۔ لڑکیوں کی قیمت اس دور کے سات آٹھ ہزارروپے کے قریب لگتی۔
گاوں میں کمبوہ برادری کی کثرت تھی جو سکھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ تقسیم ہند ، جسے اجاڑے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کےوقت سکھ قوم اس گاؤں سے ہجرت کر کے بھارتی پنجاب کے شہروں میں آباد ہوئی۔ ان میں سے کچھ کے نام گاؤں والوں کو یاد ہیں اور وہ بھی اس لیے کہ ان کے ورثاء کبھی کبھار اپنے آباء کی جنم بھومی کھنگالتے اس گاؤں آ نکلتے ہیں۔
ایسے ہی چند ایک ناموں میں ماسٹر نتھا سنگھ کا نام سرفہرست ہے جو گاؤں کے پرائمری سکول میں پڑھاتے تھے۔ ان کی اس گاؤں میں دو مربع زمین تھی۔ برسوں بعد ان کے بھتیجے اس گاؤں آئے جن کو گاؤں کے کچھ بزرگوں نے پہچانا اور انہیں ان کا آبائی گھر اور زمین دکھائی۔ پرانی نشانیوں میں واحد ایک برگد کا درخت موجود تھا جس نے مہمانوں کو اشک بار کیا۔ اس کے پتے وہ بطور یاد اپنے ساتھ لے گئے۔
دوسرا نام بلدیپ سنگھ کا ہےجو پہلے بھارت پھر کینیڈا میں آباد ہوئے۔ وہ ہرسال اس گاؤں میں آتے ہیں اور اپنے جاننے والوں کے ہاں چند دن گزارتے ہیں۔ اج بھی ان کے دل میں اپنے آبائی گھر کے لیے اتنی ہی محبت ہے۔ اپنے گھر کو دیکھنے کے بعد ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے ہیں جس کی اب صرف ایک دیوار باقی ہے جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔
بلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ آج بھی ان کو وہ سب یاد ہے جب انہوں نے یہ گھر بنایا تھا۔ تقسیم کے بعد ان کو وہ گھر چھوڑنا پڑا اور اس کے بدلے میں ان کوانڈیا کے ضلع فیروزپور تحصیل زیرہ میں زمین دی گئی۔انڈیا میں آباد ہونے کے کچھ عرصے بعد بلدیپ سنگھ اپنی فیملی سمیت کینیڈا چلے گے۔اب بلدیپ سنگھ سال میں دو بار اپنے دونوں گھروں میں آتے ہیں اور بچپن کی یادوں ، دوستوں سے ملاقاتوں کے بعد ان قیمتی لمحات کی گٹھڑ ی باندھے دوبارہ زندگی کے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔
گاوں کے ایک طرف سلیمان کی بھینی یعنی چھوٹی آبادی ہے۔ یہاں کبھی جہانڑیاں یا شمشان گھاٹ تھا جہاں ہندو اور سکھ مردے جلاتے۔ سلیمان کی بھینی سے کچھ آگے کشمیری پلی آتی ہےجس کی تاریخ جالندھر سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہونے والے بٹ خاندان سے ملتی ہے۔
اس خاندان کے سربراہ نانک بٹ ضلع جالندھر کی تحصیل نکودر کے ایک گاؤں لمبا پنڈ سے ہجرت کر کے ڈجکوٹ آباد ہوئے اور وہاں لمبا پنڈ کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں وہ ہجرت کر کے چک 88 میں آباد ہوئے اور ایک مربع زرعی زمین خریدی اور یوں اس زمین کے ایک کونے کو کشمیری پلی کا نام دیا گیا۔ اس وقت کے وزیر چھوٹو رام کی زرعی پالیسیوں کی بدولت اس زمین کی ایک قسط ادا ہوئی اور باقی دو اقساط معاف ہو گئیں۔ بعد ازاں اس خاندان نے زمین فروخت کر کے اس گاؤں سے ہجرت کی اور چیچہ وطنی اربن، بورے والا ، اوکاڑہ اور ساہیوال میں آباد ہوئے۔ تاہم کشمیری پلی اب بھی اسی نام سے جانی جاتی ہے۔گاوں میں موجود بٹ خاندان کے دیگر گھرانے چک 50 بارہ ایل سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئےجن کے آباؤاجداد فیروزپور سے تعلق رکھتے تھے۔
(جاری ہے)
————————————————————————-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے