urdu columns

صحت عا مہ کے بنیا دی مسا ئل

ڈاکٹر ابراہیم مغل
Cleanliness is next to godliness
اردو میں اس کا مطلب ہے صفا ئی نصف ایما ن۔ ز با ن سے تو ہم اس کا اقرار کر لیتے ہیں لیکن ایما ن سے تعلق رکھنے والے اس کا م کو بھی ہماری حکومتیں ڈھنگ سے انجام نہیں دے سکیں۔ چاروں صوبوں کا شہری صفائی کا نظام اور طریقہ کار ایک دوسرے سے نہیں ملتا۔ ہر جگہ اپنی اپنی جگہ مرضی کے تجربات ہوئے اور ہر تجربہ ناکامی کی الگ کہانی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک کراچی میں صفائی کی ناقص صورتحال کی مثال دی جاتی تھی، اُدھر لاہور میں یہ کام ایک غیرملکی کمپنی کو ٹھیکے پر دے دیا گیا، بعدمیں کراچی والوں نے بھی یہی کیا۔ مگر یہ مہنگے ٹھیکے موجودہ حکومتوں کے لیے بوجھ بن چکے ہیں۔ پنجاب کے سینئرز وزیر کے بقول صرف لاہور کی صفائی پر سالانہ 20 ارب روپے خرچ ہورہے ہیں۔ اب پنجاب حکومت سوچ رہی ہے کہ کوڑا اٹھانے پر دی جانے والی سبسڈی ختم کردی جائے اور عوام یہ اخراجات خود برداشت کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پہلی بار نہیں ہوگا، ماضی میں بھی ایسے ٹیکس لاگو رہے ہیں مگر مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب حکومتیں ووٹوں کے لالچ میں ٹیکس ختم کرکے نیک نامی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ٹیکس ختم کرکے خسارہ قرضوں سے پورا کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک غیرملکی کمپنیوں پر انحصار کی عادت کم کی جائے اور ملکی وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے کوشش کی جائے کہ جہاں تک ممکن ہو خود کام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے قومی اور نجی شعبے میں ادارے بنائے جائیں۔ بہر حا ل صفا ئی ہی کے ضمن میں ایک اہم نکتہ پلا سٹک کے تھیلو ں کی ہما رے معا شر ے میں بڑھتی ہو ئی بھر مار سے متعلق ہے۔ پلاسٹک کی تھیلیوں کے ماحولیات پر مضر اثرات سے کو ئی بھی شخص انکا ر نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسا عفریت ہے جو خشکی، پانی اور ہوا کو یکساں نقصان پہنچارہا ہے مگر اس کے باوجود پلاسٹک کی تھیلیوں کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاسکا۔ آج بھی ممنوعہ مواد کے پلاسٹک بیگ سرعام استعمال ہورہے ہیں اور ان پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا جاتا۔ ماحولیات خصوصاً زمین اور پانی کو اس خطرناک میٹریل سے بچانے کے لیے تیز قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں لاہور کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے اپنی حدود میں پلاسٹک کی تھیلی کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ بے شک ایک اچھا امر ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو عر صہِ درا ز سے سے تو جہ کا مستحق چلا آ رہا تھا۔ اگر چند بڑے شہر اپنی حدود میں پلاسٹک بیگز کی خرید و فروخت پر پابندی لگادیں تو سیوریج کے نظام میں سالانہ کروڑوں کی بچت کرسکتے ہیں نیز پلاسٹک کی بہتات سے خطرناک آلودگی میں بدل جانے والا کوڑا بھی قابل استعمال ہوسکتا ہے۔ آج بھی ممنوعہ میٹریل سے تیا ر کر دہ بیگز عام استعمال ہورہے ہیں۔ آلودگی کی اس شکل کی روک تھام کا بندوبست کیا جانا نہایت ضروری ہے، جس کے اثرات ہمارے ماحول پر ایک لمبے عرصے تک رہیں گے۔ سامان کے ساتھ مفت میں پلاسٹک بیگز کی حوصلہ شکنی بھی مؤثر ہوسکتی ہے مگر سب سے اہم یہ کہ اس ضمن میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے۔ عوا م میں اِس شعور کی آ گا ہی کا تعلق محکمہِ صحت سے ہے۔مگر اس ادارے کی اپنے فرا ئضِ منصبی کی بجا آ وری با رے حا لت یہ ہے کہ پاکستان میں علاج صرف امیر آدمی ہی کرواسکتا ہے یا وہ جو با اثر ہو۔
یہا ں یہ امر کچھ حد تک قا بلِ تسلی ہے کہ سپر یم کو ر ٹ کے چیف جسٹس جنا ب ثا قب نثا ر نے اِس ملک کی خستگی کو ٹھیک ٹھیک سمجھتے ہو ئے بیان دیا ہے کہ ملک میں بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت کی سہولیات یقیناًان ترجیحات میں سرفہرست ہونی چاہئیں، مگر زمینی حقائق اس سے مختلف تصور پیش کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں محدود سہولیات کی وجہ سے سالانہ ایک کروڑ آپریشن التوا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہسپتالوں میں دواؤں کی کمی اور معیار الگ مسئلہ ہے، مگر علاج تو سب سے لازمی انسانی ضرورت ہے جسے سرکار کی محدود دلچسپی، غفلت یا ناکامی کے باعث ٹالا نہیں جاسکتا۔ چنانچہ علاج ہمارے ہاں شہری کا ذاتی معاملہ بن چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 78 فیصد مریضوں کو اپنے علاج کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ان حالات میں جب ملک کی ایک تہائی آبادی خطِ افلاس سے نیچے ہے، یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ لوگ اپنے محدود ترین آمدنی کے وسائل میں دیگر ضروریاتِ زندگی یا بے شک وہ متوسط طبقے کا فرد ہی کیوں نہ ہو، جب اسے علاج کے اخراجات پیش آتے ہیں تو وہ بچوں کی تعلیم، خوراک یا دیگر لازمی اخراجات کی مدات میں کٹوتی پر مجبور ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ سوال نہیں بنتا کہ پاکستان کے 45 فیصد بچوں کی ذہنی نمو اِن کی عمر کے مطابق کیوں نہیں یا تعلیم میں یہ کیوں پیچھے ہیں یا سماج میں ہم آہنگی کا فقدان کیوں ہے۔ واضح رہے کہ لوگوں کو اپنی زندگی کی دو ڑ دھو پ میں آ گے بڑھنے کے لیے جن تکلیف دہ حالات سے گزرنا پڑتا ہے، اس کے بعد زندگی کا مرجھا جانا حیرت کی بات نہیں۔ ہمارے سماج کی بالائی پرت کو چھوڑ کر نیچے ہر سطح پر ایسے مسائل کا سامنا ہے جہاں حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوئی اور لوگ مشکلات میں مبتلا ہوئے۔ بدقسمتی دیکھئے کہ لاہور میں امراض جگر و گردہ کے ایک ہسپتال پر خطیر رقم خرچ کردی گئی، مگر اس ہسپتال کی پیشہ وارانہ افادیت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکی۔ دوسری جانب سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو بیڈتک دستیاب نہیں اور اکثر جگہ تو ایمرجنسی میں لازمی سہولیات بھی میسر نہیں۔ ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں کے ہسپتالوں کی یہی صورت ہے، جہاں عام آدمی کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ جائے اور اسے تسلی بخش طور پر علاج کی سہولت حاصل ہوسکے۔ بااثر طبقے کو یہاں بھی خصوصی سہولیات حاصل ہوتی ہیں اور بے چارہ عام آدمی خوار ہوتا ہے۔ جب علاج بھی سفارش کے بغیر اور میرٹ پر نہ ہو تو باقی کیا رہ جاتا ہے، مگر علاج کے مسائل صرف حکومت کی جانب سے کم بجٹ اور سرکاری ہسپتالوں کی بدحالی تک محدود نہیں۔ نجی ہسپتالوں کی ریگولیشن اور معیار یقینی بنانے میں جو کوتاہی برتی گئی اس نے نجی شعبہ صحت کو لوٹ مار کی ایک مثال بنادیا، جس پر عوام شدید پریشان ہیں۔ فاضل سپریم کورٹ نے نجی ہسپتالوں کے نظام کی بہتری اور قیمتوں کو مناسب حدود کے اندر مقرر کرنے کی غرض سے کچھ عرصہ پہلے نوٹس لیا تھا، جس کا اثر اب قیمتوں میں مناسب حد تک کمی کی صورت میں سامنے ہے۔ اس سے قبل عدالت عظمیٰ ہی کی جانب سے سٹنٹ اور دیگر آلات کی قیمتوں کو بھی واضح کیا گیا، مگر ان احکامات کے بعد یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ ڈالر کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں بھی بڑے اضافے کا خدشہ ہے۔ ادویہ ساز ادارے، جو عندیہ دے رہے ہیں؛ اگر قیمتیں اس کے مطابق بڑھیں تو سنگین بحران کا خطرہ پیدا ہوگا۔ سا منے نظر آ نے والے اس بحر ان سے نپٹنے کے لیئے حکو مت کی کیا تیا ری ہے، ایک ایسا سوا ل ہے جس کا جوا ب تا حا ل میسر نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں