Home / کالم / شخصیت : بیگم شہناز جاوید
xmna begum shahnaz javed

شخصیت : بیگم شہناز جاوید

ارشد فاروق بٹ

شہید محترمہ بینظیر بھٹو سے (آئرن لیڈی ) کا خطاب حاصل کرنے والی سابق ایم این اے بیگم شہناز جاویدچیچہ وطنی کی وہ واحد سیاسی شخصیت ہیں جو تقریباً 30 برس کے طویل عرصے سے اپنی جماعت اور نظریے کیساتھ وفادار ہیں اور بھرپور دیانتداری کیساتھ سیاسی میدان میں جدّوجہد کر رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب کہ پیپلز پارٹی کو اپنوں کا ساتھ بھی نصیب نہیں وہ اس میدان میں جم کر کھڑی ہیں۔

چیچہ وطنی میں ایک وقت تھا جب خیبر گھی کارپوریشن شہر کی واحد بڑی انڈسٹری تھی۔ بیگم شہناز روڈ پرواقع یہ مل 1956 میں لگائی گئی جس کی مشینری جرمنی سے امپورٹ کی گئی تھی۔ 1963 تک اس کارپوریشن کو توسیع دی گئی اور پاکستان میں تیار کردہ ایک اور پلانٹ اس میں لگایا گیا۔

کارپوریشن کے مالک ، بیگم شہناز جاوید کے والد خان محمد زمان شہر کے معروف صنعتکار اور شہر کے امیر ترین آدمیوں میں سے تھے۔ مہنگی ترین گاڑیاں رکھنا ان کا شوق تھا۔ یہ وہ دور تھا جب رائے ہاؤس ابھی اس میدان میں شیر خوار تھا۔
کارپوریشن کے دیگر شیئر ہولڈرز میں امیر حمزہ، شیخ عبدالحق اور محمد مجید شامل تھے۔ اکاؤنٹس اور دیگر معاملات بیگم شہناز جاوید کے خاوند شیخ جاوید کے بھائی کے سپرد تھے جن کی وفات کے بعد 1965 میں گھی کارپوریشن شیخ جاوید کی سربراہی میں آئی۔
اس دوران خیبر گھی کارپوریشن 2 سال بند بھی رہی۔ تاہم شیخ جاوید کی قیادت میں ایک دفعہ کارپوریشن کو پھر عروج ملا۔ مزدوروں کو دستیاب سہولتوںمیں چھ ماہ کا بونس، آدھی قیمت پر سال بھر کے لیے ادھار گندم وغیرہ شامل تھیں ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ 70 کی دہائی میں پورے ملک میں مزدوروں کی پہیہ جام ہڑتال کے موقع پر بھی اس انڈسٹری میں مزدوروں نے کام جاری رکھا۔

یہ بھی پڑھیے: شخصیت، چوہدری طفیل جٹ

خیبر بناسپتی گھی اورخیبر سوپ اس کارپوریشن کی فخریہ اور مشہور زمانہ پیشکش تھی۔ شیخ جاوید کی جانب سے کارپوریشن کے معاملات سنبھالنے کے بعد خان محمد زمان نے اسی مل کے سامنے ایک برڈ فارم بنا لیا۔
1973 میں اس کارپوریشن کو نیشنلائز کیا گیا۔ تب اس کے 4 کروڑ سے زائد کے ریزروتھے اور ٹینکر تیل سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ کارپوریشن 1973 سے 1993 تک حکومت کے زیر انتظام رہی۔
خان محمد زمان کی سماجی خدمات کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ جس جگہ آج گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ہے اس جگہ کبھی مال منڈی ہوا کرتی تھی۔ خان محمد زمان نے اپنے وفد کے ہمراہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سے بات کر کے نواب آف کالا باغ ملک میر محمد خان سے ملاقات کی اور اس جگہ سے مال منڈی منتقل کروا کر یہاں کالج تعمیر کروایا جو بعد میں نیشنلائز ہونے کے بعد سرکاری انتظام میں آ گیا۔
اسی طرح گورنمنٹ کریسنٹ کالج فار گرلز کے لیے رقبے کی قیمت بھی اسی خاندان نے ادا کی اور ماسٹر کبریا کے ہمراہ بیگم شہناز جاوید اور شیخ جاوید نے کالج کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ کالج بھی بعد میں نیشنلائز ہونے کے بعد سرکاری انتظام میں چلا گیا۔ بعد ازاں ڈی نیشنلائز ہونے کے بعد حکومت کی طرف سے بیگم شہناز جاوید سے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے کالج کا رقبہ واپس نہیں لیا اور کالج کو بدستور سرکاری انتظام میں چلنے دیا۔
بیگم شہناز جاوید کے خاوند شیخ جاویدکے مطابق ضیاءالحق دور میں خان محمد زمان کو کیبنٹ میں شمولیت کی دعوت دی گئی تاہم ان کی طرف سے معذرت کے بعد رائے محمد اقبال کو کیبنٹ میں شامل کر لیا گیا۔

بیگم شہناز جاوید نے عملی سیاست کا آغاز 1988 سے کیا۔ انہوں نے 1988 کے عام انتخابات میں تحریک استقلال کی امیدوار کے طور پر 15 ہزارتین سو چھتیس ووٹ حاصل کیے۔ اس کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

1990 کے انتخابات میں انہوں نے 65 ہزار 810 ووٹ لیے جبکہ رائے احمد نواز خاں نے 69 ہزار 338 ووٹ حاصل کیے۔
1993ء کے عام انتخابات میں بیگم شہناز جاوید نے 73 ہزار 454 ووٹ حاصل کیے اور رائے احمد نواز خاں کو شکست دی۔
1997 کے انتخابات میں وہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔
2002 کے عام انتخابات میں انہوں نے سابق صدر فاروق احمد خاں لغاری کے 39 ہزار 312 ووٹوں کے مقابلے میں 35 ہزار 496 ووٹ حاصل کیے۔
2008 کے انتخابات میں انہوں نے ق لیگ کے ملک نعمان احمد لنگڑیال کے 39 ہزار 864 ووٹوں کے مقابلے میں 37 ہزار 986 ووٹ حاصل کیے۔
2013 کے الیکشن میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔

شہر کی پہلی بڑی انڈسٹری خیبر گھی کارپوریشن کو 1993 میں ڈی نیشنلائز کیا گیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد ہی اس قدیم انڈسٹری کو زوال آ گیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس خاندان کی سیاست پر بھی زوال آیا۔
اگر 2001 میں بیگم شہناز جاوید ضلعی نظامت کا انتخاب جیت جاتیں تو آج تاریخ مختلف ہوتی۔ سیاست سے طویل عرصہ دوری کے بعد اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ خاندان اپنی کھوئی ہوئی جنت دوبارہ حاصل کر پائے گا؟
بیگم شہناز جاوید میں جو قائدانہ صلاحیتیں ہیں ، انکے سیاسی وارث علی جاوید کو انہیں مشعل راہ بنانا ہو گا۔ ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے ہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے